14 جولائی 2026 - 15:40
مآخذ: ابنا
مدھیہ پردیش سپریم کورٹ: کمال مولا مسجد کمپلیکس سے متعلق اپیلیں سماعت کے لیے منظور

سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع کمال مولا مسجد (بھو ج شالا) کمپلیکس سے متعلق مسلم فریق کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ یہ اپیلیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 15 مئی 2026 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،سپریم کورٹ نے بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع کمال مولا مسجد کمپلیکس سے متعلق مسلم فریق کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ یہ اپیلیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 15 مئی 2026 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔

چیف جسٹس سوریہ کانت،جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے مسلم فریق کے وکلاء کی فوری سماعت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے ہدایت دی کہ درخواستوں میں موجود تکنیکی نقائص دور کیے جائیں، جس کے بعد مقدمہ جلد مناسب بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 15 مئی 2026 کو اپنے فیصلے میں اس کمپلیکس کو دیوی سرسوتی کے مندر بھو ج شالا قرار دیتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے اس سابقہ انتظام کو منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت مسلمانوں کو ہر جمعہ نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اس محفوظ تاریخی یادگار کے انتظام و انصرام کے بارے میں مرکزی حکومت اور اے ایس آئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

یہ مقام اے ایس آئی کے تحت ایک محفوظ تاریخی یادگار ہے اور اس کی تاریخی و مذہبی حیثیت پر طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔ ہندو فریق کا مؤقف ہے کہ یہ مقام بھوج شالا اور دیوی سرسوتی کا قدیم مندر ہے، جبکہ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ یہ کمال مولا مسجد ہے، جہاں صدیوں سے نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔

سن 2003 سے اے ایس آئی کے ایک انتظام کے تحت ہندو برادری کو ہر منگل اور وسنت پنچمی کے موقع پر پوجا کی اجازت تھی، جبکہ مسلمانوں کو ہر جمعہ نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد یہ انتظام ختم ہو گیا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، جبکہ ہندو فریق نے بھی عدالت عظمیٰ میں کیویٹ دائر کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ ان کا مؤقف سنے بغیر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے فی الحال صرف اپیلوں پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مقدمے کے بنیادی نکات پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha